Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آنکھوں کا یہ ہوس کیوں لیتی نہ امتحاں بھی

ارسلان فارس

آنکھوں کا یہ ہوس کیوں لیتی نہ امتحاں بھی

ارسلان فارس

MORE BYارسلان فارس

    آنکھوں کا یہ ہوس کیوں لیتی نہ امتحاں بھی

    بے پردگی تھی یاں بھی بے پردگی وہاں بھی

    آواز آہ و گریہ اس کو نہ تم سمجھنا

    ہوتے ہیں یاد عاشق کٹتے ہیں سر جہاں بھی

    شکوے تو تھے بہت سے یہ سوچ کر نہ بولے

    ایسا نہ ہو کہ بولیں جاتی رہے زباں بھی

    تھا منتظر زمانہ جانے مگر ہوا کیا

    راز اپنا کھل نہ پایا تھے گرچہ راز داں بھی

    دن صومعہ میں گزرا اور شب صنم کدے میں

    بندے بھی ہیں خدا کے کچھ عاشق بتاں بھی

    ہر چند آ گئے وہ تیرے بھی گھر رقیبا

    اتنا نہ خود پہ نازو آتے ہیں وہ یہاں بھی

    اب زندگی پڑے گی جینی کہ آ پڑی ہے

    ہو گرچہ شادمانی یا نالہ و فغاں بھی

    وہ منتظر قضا کی یہ منتظر ہے تیرا

    روتی ہے زندگانی روتا ہے ارسلاںؔ بھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے