آنکھوں کا یہ ہوس کیوں لیتی نہ امتحاں بھی
آنکھوں کا یہ ہوس کیوں لیتی نہ امتحاں بھی
بے پردگی تھی یاں بھی بے پردگی وہاں بھی
آواز آہ و گریہ اس کو نہ تم سمجھنا
ہوتے ہیں یاد عاشق کٹتے ہیں سر جہاں بھی
شکوے تو تھے بہت سے یہ سوچ کر نہ بولے
ایسا نہ ہو کہ بولیں جاتی رہے زباں بھی
تھا منتظر زمانہ جانے مگر ہوا کیا
راز اپنا کھل نہ پایا تھے گرچہ راز داں بھی
دن صومعہ میں گزرا اور شب صنم کدے میں
بندے بھی ہیں خدا کے کچھ عاشق بتاں بھی
ہر چند آ گئے وہ تیرے بھی گھر رقیبا
اتنا نہ خود پہ نازو آتے ہیں وہ یہاں بھی
اب زندگی پڑے گی جینی کہ آ پڑی ہے
ہو گرچہ شادمانی یا نالہ و فغاں بھی
وہ منتظر قضا کی یہ منتظر ہے تیرا
روتی ہے زندگانی روتا ہے ارسلاںؔ بھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.