کبھی نہ اشک بہائے بھلے ہی گھاؤ گرے
کبھی نہ اشک بہائے بھلے ہی گھاؤ گرے
مجھے پسند نہیں آنکھ پر تناؤ گرے
جمے ہیں برف کے مانند اشک آنکھوں میں
ٹپک پڑیں گے اگر رنج کے الاؤ گرے
اثر فراق کا ہوگا نیا نیا ہم پر
نشان پڑتے ہیں مٹی پہ جب دباؤ گرے
مری کمی سے اسے فرق بھی نہ تھا جیسے
فعو کے وزن پہ لفظ خودی کی واؤ گرے
شجر کا عشق نہیں اس کو پھل کا بوجھ کہو
اگر زمیں کی طرف شاخ کا جھکاؤ گرے
غذا بنائی ہے انساں نے مچھلیاں کتنی
تو کیا برا ہے سمندر میں ایک ناؤ گرے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.