Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نظر نواز تو ہیں بحر و بر ہمارے لیے

ظفر اقبال

نظر نواز تو ہیں بحر و بر ہمارے لیے

ظفر اقبال

MORE BYظفر اقبال

    نظر نواز تو ہیں بحر و بر ہمارے لیے

    وبال جاں ہی سہی بال و پر ہمارے لیے

    کہیں فضا میں بسایا ہے عکس ناب کا شہر

    کہیں ہوا میں بنایا ہے گھر ہمارے لیے

    وہ برگ تازہ نہیں لوح سبز تھی جس پر

    لکھی ہوئی تھی نئی اک خبر ہمارے لیے

    ہماری موج نگہ نے مٹا دیے ورنہ

    ہزار نقش بنے خاک پر ہمارے لیے

    پڑے ہوئے تھے خس و خار کی طرح لیکن

    اٹھا نہ سنگ سیہ سے شرر ہمارے لیے

    کوئی برستا رہا قہر کی گھٹا بن کر

    کوئی ترستا رہا عمر بھر ہمارے لیے

    کنار دشت پہ دیوار سا کھڑا ہے ابھی

    بلائے خواب سفر کا خطر ہمارے لیے

    کیا ہلاک ہمیں دشمنوں نے رستے میں

    سجے ہوئے تھے یہاں بام و در ہمارے لیے

    غزل میں ٹانکتے ہیں وصل و ہجر کے مضموں

    کہ رہ گیا ہے یہی اک ہنر ہمارے لیے

    مأخذ :
    • مطبع : احمد ندیم قاسمی (1963)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے