بچھڑ کے شاخ سے گلیوں میں پتیاں نکلیں
بچھڑ کے شاخ سے گلیوں میں پتیاں نکلیں
ریلیف کیمپ سے کل روتی بیبیاں نکلیں
رواں تھا شہر میں ناراض پانیوں کا جلوس
مکین ڈوب گئے جب تو کشتیاں نکلیں
چھتوں پہ رہنے لگے لوگ اور کیا کرتے
کہ ہر مکان کی پانی میں سیڑھیاں نکلیں
فصیل آب رضاکار پر گری دھم سے
ٹٹولی جیب جو اس کی تو بالیاں نکلیں
محافظوں میں ہوئی وہ لڑائی ملبے پر
مرے ہوؤں کی وراثت پہ برچھیاں نکلیں
کھلی جو دھوپ مکانات گر گئے مسعودؔ
زمیں کے جسم سے کرنوں کی کرچیاں نکلیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.