ذکر چھڑنا گردش ایام کا
ذکر چھڑنا گردش ایام کا
یاد آنا اختتام اک شام کا
کیا کہا دل کو رہائی مل گئی
کیا ہوا اس پر لگے الزام کا
صبر کا لینا مسلسل امتحاں
دیکھنا رستہ ترے پیغام کا
جب منانے کو نہیں موجود وہ
پھر ہمارا روٹھنا کس کام کا
جیسے تیسے کاٹ لیتے ہیں سحر
دل ڈبو دیتا ہے منظر شام کا
ہم سے پوچھو راہ کی دشواریاں
ہم نے تھا رستہ چنا آرام کا
کیوں رکھیں چاہت چلے پیچھے کوئی
کیوں کریں دعویٰ کسی الہام کا
اب کہاں تخلیق میں وہ دل کشی
راجؔ شاعر رہ گیا ہے نام کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.