میں صبح کا بھولا تھا مگر شام سے پہلے
میں صبح کا بھولا تھا مگر شام سے پہلے
گھر جا نہ سکا گردش ایام سے پہلے
ٹک آنکھ لگی ہے مجھے آواز نہ دینا
اٹھوں گا نہ میں حشر کے ہنگام سے پہلے
زنہار اگر مجھ پہ اٹھی پھر کوئی انگشت
تقصیر ہے لازم کسی الزام سے پہلے
یہ تلخ نوائی مری فطرت تو نہیں تھی
میں ایسا نہ تھا تلخیٔ ایام سے پہلے
اب آنکھ میں حیرت ہے نہ ہونٹوں پہ فغاں ہے
دل سخت نہ تھا سختیٔ آلام سے پہلے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.