کون جانے کس طرف سے پہلا پتھر آئے گا
کون جانے کس طرف سے پہلا پتھر آئے گا
شام کے ڈھلتے ہی جب پاگل گداگر آئے گا
زرد چہرہ دیکھ کر اس کا برا مت ماننا
چاند اب تاریک راہوں سے گزر کر آئے گا
پیار کے رستے ہمیشہ کی طرح پر پیچ ہیں
جو بھی ان راہوں سے آیا زخم کھا کر آئے گا
گھر کے آنگن میں نہ تاریکی کے تو میلے لگا
روشنی کے شہر سے ہو کر ستم گر آئے گا
ادھ کھلی کلیاں بچھا دوں ہر گلی ہر موڑ پر
کون جانے آج کس رستے سے وہ گھر آئے گا
اپنی باری کے ہیں عرشیؔ لوگ کتنے منتظر
ظرف بدلیں گے تو جب ہاتھوں میں ساغر آئے گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.