چلو اب عشق میں ایسا کریں ہم
چلو اب عشق میں ایسا کریں ہم
چلو اب عشق سے توبہ کریں ہم
ہزاروں سال جو سوچا گیا ہے
اسے کیا سوچ کر سوچا کریں ہم
کتاب ہجر کے سونے ورق پر
تمہارا نام کیوں لکھا کریں ہم
ضروری کیا کہ ہر دن خواب دیکھیں
ضروری کیا کہ پھر پیچھا کریں ہم
بچھڑتے وقت وو رویا نہیں تھا
کسی کا جھوٹ کیوں پکڑا کریں ہم
یہی اک جھوٹ سب کا آسرا ہے
ترے ہونے پہ کیا چرچا کریں ہم
مسلسل ہے ہماری بے نیازی
کسی سے کیا بھلا شکوہ کریں ہم
بدلنا وقت کی تاثیر ہے پر
روایت کے لیے اب کیا کریں ہم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.