اس طرح میری ذات کو الجھا دیا گیا
اس طرح میری ذات کو الجھا دیا گیا
سائے کو تیز دھوپ میں پھیلا دیا گیا
میری زبان میرا ہی خوں چاٹنے لگی
مجھ کو مرے ہی نام کا دھوکا دیا گیا
آنکھیں جلیں جو تلخئ حالات سے کبھی
لفظوں کا شہد کان میں ٹپکا دیا گیا
جن کے لہو کی ضو سے منور تھے راستے
منزل کو دیکھ کر انہیں ٹھکرا دیا گیا
امید کی کرن کو اندھیرے نگل گئے
پانی دکھا کے پیاس کو بھڑکا دیا گیا
گم ہو گئی سکوت میں طوفاں کی بازگشت
ساحل کا جسم موج کو پہنا دیا گیا
میرے لہو سے حدت احساس چھین کر
میرا وجود پھر مجھے لوٹا دیا گیا
ٹکڑے ہم آئنے کے سنبھالا کیے رؤفؔ
ہم سے نہ اپنی لاش کو کاندھا دیا گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.