نیند لے لے کے خواب تک آئے
نیند لے لے کے خواب تک آئے
پھر کہیں ہم جناب تک آئے
چہرہ چہرہ پڑھا تو پھر صاحب
ہم محبت کے باب تک آئے
یوں تو لاکھوں ہیں زندگی میں مگر
ہم ترے انتخاب تک آئے
میرے دل تک وہ اس طرح آیا
پھول جیسے کتاب تک آئے
جھانک لے جو بھی تیری آنکھوں میں
پھر وہ کیونکر شراب تک آئے
جب وہ بچھڑا تو میری آنکھوں میں
راوی ستلج چناب تک آئے
ہاتھ تھامے فریب کا امجدؔ
چلتے چلتے سراب تک آئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.