Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کف حباب کبھی سیل آب کی صورت

سرمد صہبائی

کف حباب کبھی سیل آب کی صورت

سرمد صہبائی

MORE BYسرمد صہبائی

    کف حباب کبھی سیل آب کی صورت

    ہر ایک پل ہوں رواں پیچ و تاب کی صورت

    حد نظر میں مسلسل حصار صحرا ہے

    خط سفر ہے نمایاں سراب کی صورت

    کھلا ہوں ابر سیہ میں در شفق کی طرح

    چمک رہا ہوں رگ آفتاب کی صورت

    بڑے غرور سے نکلا ہوں دام سر سر سے

    سر نظارہ کھلا ہوں گلاب کی صورت

    اتر گیا ہوں نگاہوں میں آب غم لے کر

    دلوں میں پھرتا ہوں میں اضطراب کی صورت

    بدن کہ تندیٔ خوں سے ہوا ہے شل میرا

    کھنچی ہوئی ہے ہر اک رگ طناب کی صورت

    ہوئی ہے برہنہ لوح بدن پہ ہر خواہش

    کھلا ہوا ہوں ہر اک پر کتاب کی صورت

    جو اس کو دیکھا تو تصویر بن گئیں آنکھیں

    وہ مجھ پہ طاری ہوا سحر خواب کی صورت

    تمام جسم رواں ایک جوئے مست میں ہے

    کوئی پھرے ہے رگوں میں شراب کی صورت

    کمال شعر و سخن رائیگاں ہے اب سرمدؔ

    نکال کوئی یہاں انقلاب کی صورت

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے