کف حباب کبھی سیل آب کی صورت
کف حباب کبھی سیل آب کی صورت
ہر ایک پل ہوں رواں پیچ و تاب کی صورت
حد نظر میں مسلسل حصار صحرا ہے
خط سفر ہے نمایاں سراب کی صورت
کھلا ہوں ابر سیہ میں در شفق کی طرح
چمک رہا ہوں رگ آفتاب کی صورت
بڑے غرور سے نکلا ہوں دام سر سر سے
سر نظارہ کھلا ہوں گلاب کی صورت
اتر گیا ہوں نگاہوں میں آب غم لے کر
دلوں میں پھرتا ہوں میں اضطراب کی صورت
بدن کہ تندیٔ خوں سے ہوا ہے شل میرا
کھنچی ہوئی ہے ہر اک رگ طناب کی صورت
ہوئی ہے برہنہ لوح بدن پہ ہر خواہش
کھلا ہوا ہوں ہر اک پر کتاب کی صورت
جو اس کو دیکھا تو تصویر بن گئیں آنکھیں
وہ مجھ پہ طاری ہوا سحر خواب کی صورت
تمام جسم رواں ایک جوئے مست میں ہے
کوئی پھرے ہے رگوں میں شراب کی صورت
کمال شعر و سخن رائیگاں ہے اب سرمدؔ
نکال کوئی یہاں انقلاب کی صورت
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.