Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بدن میں آگ ہے چہرہ گلاب جیسا ہے

احمد فراز

بدن میں آگ ہے چہرہ گلاب جیسا ہے

احمد فراز

MORE BYاحمد فراز

    بدن میں آگ ہے چہرہ گلاب جیسا ہے

    کہ زہر غم کا نشہ بھی شراب جیسا ہے

    وہ سامنے ہے مگر تشنگی نہیں جاتی

    یہ کیا ستم ہے کہ دریا سراب جیسا ہے

    مگر کبھی کوئی دیکھے ہمیں پڑھے تو سہی

    دل آئنہ ہے تو چہرہ کتاب جیسا ہے

    بہار خوں سے چمن زار بن گئے مقتل

    جو نخل دار ہے شاخ گلاب جیسا ہے

    کہاں وہ قرب کہ اب تو یہ حال ہے جیسے

    ترے فراق کا عالم بھی خواب جیسا ہے

    قریب ہو تو قیامت نہ ہو تو رات ہی رات

    وہ آفتاب نہیں آفتاب جیسا ہے

    فرازؔ سنگ ملامت سے زخم زخم سہی

    ہمیں عزیز ہے خانہ خراب جیسا ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے