بدن میں آگ ہے چہرہ گلاب جیسا ہے
بدن میں آگ ہے چہرہ گلاب جیسا ہے
کہ زہر غم کا نشہ بھی شراب جیسا ہے
وہ سامنے ہے مگر تشنگی نہیں جاتی
یہ کیا ستم ہے کہ دریا سراب جیسا ہے
مگر کبھی کوئی دیکھے ہمیں پڑھے تو سہی
دل آئنہ ہے تو چہرہ کتاب جیسا ہے
بہار خوں سے چمن زار بن گئے مقتل
جو نخل دار ہے شاخ گلاب جیسا ہے
کہاں وہ قرب کہ اب تو یہ حال ہے جیسے
ترے فراق کا عالم بھی خواب جیسا ہے
قریب ہو تو قیامت نہ ہو تو رات ہی رات
وہ آفتاب نہیں آفتاب جیسا ہے
فرازؔ سنگ ملامت سے زخم زخم سہی
ہمیں عزیز ہے خانہ خراب جیسا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.