Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آنکھ میں تیرے تصور سے نمی لیں کچھ اور

عون رضا

آنکھ میں تیرے تصور سے نمی لیں کچھ اور

عون رضا

MORE BYعون رضا

    آنکھ میں تیرے تصور سے نمی لیں کچھ اور

    پھر کوئی حشر اٹھا جی میں کہ جی لیں کچھ اور

    دست امکاں مرے شانے پہ رکھا رہ جائے

    سر کروں میں تری زلفوں کی فصیلیں کچھ اور

    جھیل تو میری بھی پلکوں پہ اتر سکتی ہے

    تم کرو پیش محبت کی دلیلیں کچھ اور

    بجھ گئے زہر میں صیاد کے جلتے پیکان

    کھل گئیں مجھ پہ رعایت کی سبیلیں کچھ اور

    آنکھ کو چاہیے منظر کوئی اپنے جیسا

    خشک ہو جائیں یہ خاموش سی جھیلیں کچھ اور

    اس سے پہلے کہ سرابوں کے سفر پر نکلیں

    اے چمن ہونٹ تری اوس ہی پی لیں کچھ اور

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے