یہ تیری مئے نہیں میرا سبو ہے ضو فگن ساقی
یہ تیری مئے نہیں میرا سبو ہے ضو فگن ساقی
سراپا نور بنتی جا رہی ہے انجمن ساقی
چھلک جائے نہ بلبل کا لہو گل کے کٹوروں سے
بڑھے آتے ہیں پھر گلچیں چمن اندر چمن ساقی
بقدر ظرف پینا اور پی کر ہوش میں رہنا
ہماری بادہ نوشی کا ہے یہ اک خاص فن ساقی
ترے مے خوار لیں گے انتقام کوہکن ان سے
یہ خسرو جو بظاہر ہیں بہت شیریں دہن ساقی
دل مضطرؔ کو یوں تو اور بھی مرغوب ہیں شاعر
مگر مرغوب تر ہے فیضؔ کا رنگ سخن ساقی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.