Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

وہ چاہتوں کا سمندر ہے اب کہاں آذر

مجاز آشنا

وہ چاہتوں کا سمندر ہے اب کہاں آذر

مجاز آشنا

MORE BYمجاز آشنا

    وہ چاہتوں کا سمندر ہے اب کہاں آذر

    یہ ریگزار ہے کیوں اپنے درمیاں آذر

    میں خالی خالی سا ہوتا ہوں جب کبھی تنہا

    فضائیں چیخنے لگتی ہیں نا گہاں آذر

    طنابیں ٹوٹ رہی ہیں ہمارے خوابوں کی

    خلوص ہو گیا کیا سعی رائیگاں آذر

    یہ کیسا سنگ گراں آ پڑا ہے ہاتھوں پر

    لہولہان ہیں کیوں میری انگلیاں آذر

    وہ دن بھی کیا تھے دلوں میں چراغ جلتے تھے

    سیاہیاں ہیں اب ایسی کہ بے کراں آذر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے