وہ چاہتوں کا سمندر ہے اب کہاں آذر
وہ چاہتوں کا سمندر ہے اب کہاں آذر
یہ ریگزار ہے کیوں اپنے درمیاں آذر
میں خالی خالی سا ہوتا ہوں جب کبھی تنہا
فضائیں چیخنے لگتی ہیں نا گہاں آذر
طنابیں ٹوٹ رہی ہیں ہمارے خوابوں کی
خلوص ہو گیا کیا سعی رائیگاں آذر
یہ کیسا سنگ گراں آ پڑا ہے ہاتھوں پر
لہولہان ہیں کیوں میری انگلیاں آذر
وہ دن بھی کیا تھے دلوں میں چراغ جلتے تھے
سیاہیاں ہیں اب ایسی کہ بے کراں آذر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.