تصور خرد لیے سرور کی طرف
تصور خرد لیے سرور کی طرف
شعور سے گیا ہوں لا شعور کی طرف
امید ہے کہ زندگی سے ہوگی گفتگو
پہنچ گیا ہوں شوق میں حضور کی طرف
دلیل کو دلیل سے شکست فاش دی
غرور سے نگاہ کی غرور کی طرف
سمندروں میں کھل رہے ہیں راستے ادھر
حدیث دل اتر رہی ہے طور کی طرف
فقط سحاب تھا کبھی جہان بے کراں
یہ کون لے گیا اسے ظہور کی طرف
چہار سو خمار ہے کہ جھومتا ہے دل
کبھی ادھر کبھی ذرا سی دور کی طرف
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.