رات کو دن کے اجالے میں بدل آیا ہوں
رات کو دن کے اجالے میں بدل آیا ہوں
اک پہیلی کو جہاں کر کے میں حل آیا ہوں
اب یہ ممکن ہے کہ گھر بار بچا لے آؤں
میں محبت کے خسارے سے نکل آیا ہوں
بات یہ اور کہ بے وقت بجھے ہیں تارے
دوش یہ اور کہ میں آخری پل آیا ہوں
اپنا کچھ حال سناؤں بھی تو کیسے تم کو
بس یوں سمجھو کہ برا وقت تھا ٹل آیا ہوں
اس سمندر کو تلاطم ہے ملا ورثے میں
اور میں دریا کا بھنور ہوں جو ابل آیا ہوں
تو نے انداز بیاں پر مرے لب چومے تھے
لے ترے سامنے اب بن کے غزل آیا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.