Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دیوار کھو گئی تو کبھی در بچھڑ گیا

ﻋﺎطف رﺋﯾس ﺻدﯾﻘﯽ

دیوار کھو گئی تو کبھی در بچھڑ گیا

ﻋﺎطف رﺋﯾس ﺻدﯾﻘﯽ

MORE BYﻋﺎطف رﺋﯾس ﺻدﯾﻘﯽ

    دیوار کھو گئی تو کبھی در بچھڑ گیا

    اک ایک کر کے مجھ سے مرا گھر بچھڑ گیا

    خوش تو بہت ہوا ہوں جزیرے پہ آ کے میں

    لیکن یہ دکھ بھی ہے کہ سمندر بچھڑ گیا

    آنکھیں جھپک کے دیکھنا مہنگا پڑا مجھے

    لمحے کی دیر تھی کہ وہ منظر بچھڑ گیا

    دستار اس کے پاؤں میں رکھی تو یہ کھلا

    جاں بچ گئی ہماری مگر سر بچھڑ گیا

    اپنی خصوصیات کا ادراک تب ہوا

    جب مجھ سے ایک شب مرا لشکر بچھڑ گیا

    سائے پہ اکتفا نہ کیا اور ایک روز

    چھونے کی دیر تھی کہ وہ پیکر بچھڑ گیا

    پھر دیکھنا اداسی یہاں پھڑپھڑائے گی

    منڈیر سے اگر یہ کبوتر بچھڑ گیا

    ایسی دکھوں کی بھیڑ تھی ہر سو لگی ہوئی

    عاطفؔ میں اپنے آپ سے اکثر بچھڑ گیا

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے