دیوار کھو گئی تو کبھی در بچھڑ گیا
دیوار کھو گئی تو کبھی در بچھڑ گیا
اک ایک کر کے مجھ سے مرا گھر بچھڑ گیا
خوش تو بہت ہوا ہوں جزیرے پہ آ کے میں
لیکن یہ دکھ بھی ہے کہ سمندر بچھڑ گیا
آنکھیں جھپک کے دیکھنا مہنگا پڑا مجھے
لمحے کی دیر تھی کہ وہ منظر بچھڑ گیا
دستار اس کے پاؤں میں رکھی تو یہ کھلا
جاں بچ گئی ہماری مگر سر بچھڑ گیا
اپنی خصوصیات کا ادراک تب ہوا
جب مجھ سے ایک شب مرا لشکر بچھڑ گیا
سائے پہ اکتفا نہ کیا اور ایک روز
چھونے کی دیر تھی کہ وہ پیکر بچھڑ گیا
پھر دیکھنا اداسی یہاں پھڑپھڑائے گی
منڈیر سے اگر یہ کبوتر بچھڑ گیا
ایسی دکھوں کی بھیڑ تھی ہر سو لگی ہوئی
عاطفؔ میں اپنے آپ سے اکثر بچھڑ گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.