بچپن کی حسیں یادوں سے دل بھر نہیں جاتا
بچپن کی حسیں یادوں سے دل بھر نہیں جاتا
آنکھوں سے مری گاؤں کا منظر نہیں جاتا
کچھ وصل کے آداب ہیں کچھ عشق کی رسمیں
دریا سے گلے ملنے سمندر نہیں جاتا
جھک جانے میں کٹ جانے میں بس فرق ہے اتنا
گردن تو چلی جاتی ہے پر سر نہیں جاتا
کیوں طنز کیا کرتی ہے آوارہ مزاجی
کیا رات گئے لوٹ کے میں گھر نہیں جاتا
اب کون دعا دے گا تمہیں دشت میں وارثؔ
اس راہ سے اب کوئی قلندر نہیں جاتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.