تیر ہو کر اٹھایا کمانوں کا بوجھ
تیر ہو کر اٹھایا کمانوں کا بوجھ
سر پہ رکھ کر جئے دو جہانوں کا بوجھ
سننے والوں پہ رکھا زبانوں کا بوجھ
کہنے والوں پے ڈالا ہے کانوں کا بوجھ
آسماں کے بدن پر ہے تارا زمیں
اور زمیں پر ہے کتنی چٹانوں کا بوجھ
ساری دنیا ہماری ہے دنیا کے ہم
ہم پہ مت ڈالیے خوش گمانوں کا بوجھ
در نہیں کر سکو تو دریچہ سہی
کچھ ذرا کم تو ہو قید خانوں کا بوجھ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.