تصویر کے رنگوں کا مزاج اور ہی کچھ ہے
تصویر کے رنگوں کا مزاج اور ہی کچھ ہے
وہ حسن جو کل اور تھا آج اور ہی کچھ ہے
بت خانے پرستش کو بنا کرتے تھے پہلے
اس دور میں پوجا کا رواج اور ہی کچھ ہے
ماضی میں بھی اک جرم تھا انسان کا جینا
جو ہم کو ملا ہے وہ سماج اور ہی کچھ ہے
مانا کہ بڑا چین ہے آنچل کی ہوا میں
لیکن مرے زخموں کا علاج اور ہی کچھ ہے
اے بادشہ حسن طلب کر نہ زر و مال
ہم اہل محبت کا خراج اور ہی کچھ ہے
جھک جائے قتیلؔ آپ کا سر جس کو پہن کر
اس تاج کی کیا بات وہ تاج اور ہی کچھ ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.