Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تصویر کے رنگوں کا مزاج اور ہی کچھ ہے

قتیل شفائی

تصویر کے رنگوں کا مزاج اور ہی کچھ ہے

قتیل شفائی

MORE BYقتیل شفائی

    تصویر کے رنگوں کا مزاج اور ہی کچھ ہے

    وہ حسن جو کل اور تھا آج اور ہی کچھ ہے

    بت خانے پرستش کو بنا کرتے تھے پہلے

    اس دور میں پوجا کا رواج اور ہی کچھ ہے

    ماضی میں بھی اک جرم تھا انسان کا جینا

    جو ہم کو ملا ہے وہ سماج اور ہی کچھ ہے

    مانا کہ بڑا چین ہے آنچل کی ہوا میں

    لیکن مرے زخموں کا علاج اور ہی کچھ ہے

    اے بادشہ حسن طلب کر نہ زر و مال

    ہم اہل محبت کا خراج اور ہی کچھ ہے

    جھک جائے قتیلؔ آپ کا سر جس کو پہن کر

    اس تاج کی کیا بات وہ تاج اور ہی کچھ ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے