نظر بدل کے ہماری جانب جب اس نے دیکھا تو لوگ سمجھے
نظر بدل کے ہماری جانب جب اس نے دیکھا تو لوگ سمجھے
محبتوں کا حسین رشتہ جو پل میں ٹوٹا تو لوگ سمجھے
جہالتوں کا دل و نظر سے غبار اترا تو لوگ سمجھے
کہ ہیں قیامت کے یہ نظارے ضمیر جاگا تو لوگ سمجھے
سمجھ رہے تھے کہ میں سمندر کی تیز موجوں میں بہہ رہا ہوں
کہ سطح ساحل پہ دیر تک بھی جو میں نہ ابھرا تو لوگ سمجھے
کسی کو پہلے خبر نہیں تھی کہ رشتہ کیسا ہے میرا اس سے
وہ میرے پہلو میں جب اچانک ہی آ کے بیٹھا تو لوگ سمجھے
کہاں پتہ تھا کسی کو کچھ بھی کہ کیسا کردار ہے ہمارا
جب اپنے اندر کی خامیوں کو ہمیں نے سمجھا تو لوگ سمجھے
سمجھ نہ پایا کوئی بھی نجمیؔ جو بات نرمی سے کی ہے میں نے
بلند آواز اپنی کر کے میں جب بھی بولا تو لوگ سمجھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.