جب بھی ہم فکر کے گلزار میں آ جاتے ہیں
جب بھی ہم فکر کے گلزار میں آ جاتے ہیں
لفظ مہکے ہوئے اشعار میں آ جاتے ہیں
یہ جو ہم بزم اداکار میں آ جاتے ہیں
ایسا لگتا ہے کہ بے کار میں آ جاتے ہیں
گو شکستہ ہی سہی دھوپ سے بچنے کے لئے
ہم بھی اس سایۂ دیوار میں آ جاتے ہیں
کب سے اک ساتھ نہیں بیٹھے ہیں مل کر ہم لوگ
ایسا کرتے ہیں کہ اتوار میں آ جاتے ہیں
یہ سنا ہے کہ یہاں قیمتیں لگ جاتی ہیں
آؤ ہم بھی اسی بازار میں آ جاتے ہیں
کتنا پوشیدہ رکھیں روز کی خبروں کی طرح
عشق کے قصے تو اخبار میں آ جاتے ہیں
کوئی خواہش نہ تمنا ہے نہ فریاد کوئی
بے سبب آپ کے دربار میں آ جاتے ہیں
لاکھ احباب سے ہم اپنے چھپائیں نجمیؔ
سانحے زیست کے اشعار میں آ جاتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.