اک تماشا جان کر دل اپنا بہلانے گئے
اک تماشا جان کر دل اپنا بہلانے گئے
ایک دیوانے کو کتنے لوگ سمجھانے گئے
عیش و خوشحالی کے دن میں کوئی بیگانہ نہ تھا
شمع کے بجھتے ہی اڑ کر سارے پروانے گئے
پتھروں کے درمیاں تھے یا تھا صحبت کا اثر
جوہری کی آنکھ سے میرے نہ پہچانے گئے
بھور میں خوش ہو کے کتنا جھومنے لگتا ہے پیڑ
اس کی جانب کچھ پرندے گیت جب گانے گئے
ڈر ہے ساقی کی سخاوت پر نہ آنچ آئے کہیں
میکدے سے لے کے خالی کتنے پیمانے گئے
کیا خبر تھی بھوک کے باعث پھنسیں گے جال میں
کھیت کی جانب پرندے دیکھ کر دانے گئے
در حقیقت چند لوگوں کے یہاں تصنیف ہیں
میر و غالب کے مگر ہر گھر میں افسانے گئے
جب خبر پھیلی کہ کشتی پھنس گئی گرداب میں
شہر والے گھاٹ پر تفریح فرمانے گئے
یہ کتابیں یہ رسائل لائبریری میں ظفرؔ
کہہ رہی ہیں کس طرف اردو کے دیوانے گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.