ہماری آنکھ سے ڈھلنے لگا گہر اچھا
ہماری آنکھ سے ڈھلنے لگا گہر اچھا
غم جہاں نے سکھایا ہمیں ہنر اچھا
امیر دیتے ہیں لڑکوں کو مال و زر اچھا
غریب بیٹیاں پائیں کہاں سے بر اچھا
تھے میرؔ و مومنؔ و ذوقؔ و ظفرؔ بہت اچھے
ہمارے عہد پہ غالب کا ہے اثر اچھا
طویل راہ کے لمحے حسین ہو جائیں
کوئی جو راہ میں مل جائے ہم سفر اچھا
بھروسا جس پہ کیا ہے اسی نے لوٹا ہے
ہے قافلے کے لئے کون راہبر اچھا
سما گئی ہے کرن جس میں مہر تاباں کی
کہا گیا اسی شبنم کو بھی گہر اچھا
وہ اور ہوں گے جو لکھتے ہیں ساحلوں کو برا
قلم سے میں نہیں لکھتا کبھی بھنور اچھا
بس ایک آپ ہیں جس کے سبب بسی دنیا
بشر کی شکل میں دیکھا نہیں بشر اچھا
بجز حسین کے دنیا کے گوشے گوشے میں
کسی نے دیکھا نہ نیزے پہ کوئی سر اچھا
جو تپتی دھوپ میں سایہ کئے ہوئے ہے ظفرؔ
ہے طائروں کے لئے بھی وہی شجر اچھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.