Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہماری آنکھ سے ڈھلنے لگا گہر اچھا

ظفر مرزاپوری

ہماری آنکھ سے ڈھلنے لگا گہر اچھا

ظفر مرزاپوری

MORE BYظفر مرزاپوری

    ہماری آنکھ سے ڈھلنے لگا گہر اچھا

    غم جہاں نے سکھایا ہمیں ہنر اچھا

    امیر دیتے ہیں لڑکوں کو مال و زر اچھا

    غریب بیٹیاں پائیں کہاں سے بر اچھا

    تھے میرؔ و مومنؔ و ذوقؔ و ظفرؔ بہت اچھے

    ہمارے عہد پہ غالب کا ہے اثر اچھا

    طویل راہ کے لمحے حسین ہو جائیں

    کوئی جو راہ میں مل جائے ہم سفر اچھا

    بھروسا جس پہ کیا ہے اسی نے لوٹا ہے

    ہے قافلے کے لئے کون راہبر اچھا

    سما گئی ہے کرن جس میں مہر تاباں کی

    کہا گیا اسی شبنم کو بھی گہر اچھا

    وہ اور ہوں گے جو لکھتے ہیں ساحلوں کو برا

    قلم سے میں نہیں لکھتا کبھی بھنور اچھا

    بس ایک آپ ہیں جس کے سبب بسی دنیا

    بشر کی شکل میں دیکھا نہیں بشر اچھا

    بجز حسین کے دنیا کے گوشے گوشے میں

    کسی نے دیکھا نہ نیزے پہ کوئی سر اچھا

    جو تپتی دھوپ میں سایہ کئے ہوئے ہے ظفرؔ

    ہے طائروں کے لئے بھی وہی شجر اچھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے