Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ڈسنے سے جن کے سانپ بھی جائے ہے جان سے

مدثر حسین مدثر

ڈسنے سے جن کے سانپ بھی جائے ہے جان سے

مدثر حسین مدثر

MORE BYمدثر حسین مدثر

    ڈسنے سے جن کے سانپ بھی جائے ہے جان سے

    زہریلے اس قدر ہیں کچھ انساں زبان سے

    بنتی نہیں بنائے مری خاندان سے

    گزرے ہے کیا ہر ایک اسی امتحان سے

    کیسے کرے یقین کسی اور پر وہ گل

    خطرہ جسے ہو شام و سحر باغبان سے

    لب کھولنے سے پہلے کرو خوب غور تم

    پھر تیر لوٹتا نہیں نکلا کمان سے

    کھینچی ہے میں نے اپنی خوشی یوں نصیب سے

    فرہاد جیسے نہر نکالے چٹان سے

    کردار میں عمل نظر آتا نہیں ترے

    کچھ بھی بدل نہ پائے گا اپنے بیان سے

    کوئی خوشی بھی لوٹ کر آئے کبھی یہاں

    نکلے کبھی تو غم کی نحوست مکان سے

    ہاتھوں سے اپنے دفن کیا ہے انہیں بھی یار

    ہوتے تھے جو قریب کبھی اپنی جان سے

    دنیا غلام عقل نہ سمجھی یہ مسئلہ

    مذہب پرے ہے عشق و وفا کا گمان سے

    شاید کہ دے سکون مدثرؔ ہمیں لحد

    ہم تھک گئے ہیں روز نئے امتحان سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے