ڈسنے سے جن کے سانپ بھی جائے ہے جان سے
ڈسنے سے جن کے سانپ بھی جائے ہے جان سے
زہریلے اس قدر ہیں کچھ انساں زبان سے
بنتی نہیں بنائے مری خاندان سے
گزرے ہے کیا ہر ایک اسی امتحان سے
کیسے کرے یقین کسی اور پر وہ گل
خطرہ جسے ہو شام و سحر باغبان سے
لب کھولنے سے پہلے کرو خوب غور تم
پھر تیر لوٹتا نہیں نکلا کمان سے
کھینچی ہے میں نے اپنی خوشی یوں نصیب سے
فرہاد جیسے نہر نکالے چٹان سے
کردار میں عمل نظر آتا نہیں ترے
کچھ بھی بدل نہ پائے گا اپنے بیان سے
کوئی خوشی بھی لوٹ کر آئے کبھی یہاں
نکلے کبھی تو غم کی نحوست مکان سے
ہاتھوں سے اپنے دفن کیا ہے انہیں بھی یار
ہوتے تھے جو قریب کبھی اپنی جان سے
دنیا غلام عقل نہ سمجھی یہ مسئلہ
مذہب پرے ہے عشق و وفا کا گمان سے
شاید کہ دے سکون مدثرؔ ہمیں لحد
ہم تھک گئے ہیں روز نئے امتحان سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.