عجب رخ دے دیا ہے اس سفر کو
عجب رخ دے دیا ہے اس سفر کو
دیا ہے تخت ہم نے بے ہنر کو
ادب کی آبرو نیلام کر دی
بٹھا کر مسندوں پر کج نظر کو
وہ جن کو لفظ لکھنا بھی نہ آیا
وہ پرکھیں گے اب اہل فن کے زر کو
وہ جن کو علم کی ابجد نہ آئی
وہ اب تولیں گے فن کے سیم و زر کو
جہاں خوش آمدوں کا راج ٹھہرا
وہاں کیوں ڈھونڈتے ہو تم ہنر کو
جہاں سورج کا استحقاق بنتا
چنا ہے بستیوں نے اب شرر کو
عجب یہ طرز نو ایجاد ٹھہرا
کہ الٹا کر دیا ہے ہر سفر کو
بلالؔ اپنا مقدر اب یہی ہے
کہ روتے ہی رہیں گے ہم سحر کو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.