ذات کا دشت خطر یاد آیا
دفعتاً اوج بشر یاد آیا
خانۂ خواب میں دم لے لیتے
کیا کریں اپنا ہی گھر یاد آیا
سبز شاخوں پہ دہکتے ہوئے پھول
منظر خواب اثر یاد آیا
چند جھونکے تھے ہواؤں کے مگر
پھر نہ پتا نہ شجر یاد آیا
ایسا آباد تھا صحرائے جنوں
کیسی دیوار نہ در یاد آیا
ابر نے جب بھی اڑایا آنچل
اپنا ہی دامن تر یاد آیا
سرد انکار کے زندانوں میں
گرم خوشبو کا گزر یاد آیا
رنگ اور چہرۂ قاتل سے خفا
کوئی عنوان خبر یاد آیا
آسماں چاہے گرے یا نہ گرے
دیکھیں کس کس کو ہے سر یاد آیا
دعویٔ زہد و عبادت سے مجھے
اک ریاکار کا شر یاد آیا
جی میں ٹھانی ہے نہ بھولیں گے کبھی
وہ اگر بار دگر یاد آیا
غم کو بازار دکھانا ہی پڑا
وقت عسرت یہ ہنر یاد آیا
اس شب زر کے اندھیرے میں کسے
اشک تاباں کا گہر یاد آیا
گل کھلاتا ہوا ہر ایک روش
پھر مرا شعلۂ فریاد آیا
ہے زمیں جس کی حقیقت کا سراغ
فوقؔ وہ خواب سحر یاد آیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.