صحرا میں پھول پھول میں صحرا کھلا رہا
صحرا میں پھول پھول میں صحرا کھلا رہا
دل ہے کہ جس میں زخم تمنا کھلا رہا
چہرے پہ میرے چھاؤں تری زلف کی رہی
خوشبو کھلی رہی مرا چہرہ کھلا رہا
اک پیڑ راکھ بن کے ہوا میں بکھر گیا
حیران ہوں کہ پھر بھی پرندہ کھلا رہا
مرجھا گیا یقین تو بے حد خوشی ہوئی
یعنی کہ اک گمان سا غنچہ کھلا رہا
باسطؔ وہ چشم یاس قیامت سے کم نہ تھی
کھڑکی کھلی رہی تو اجالا کھلا رہا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.