روشنی کی سرحد کو روند کر کہاں جائے
روشنی کی سرحد کو روند کر کہاں جائے
آ گئی حد امکاں اب نظر کہاں جائے
دل خراش آہیں ہیں مضطرب نگاہیں ہیں
ہر طرف کراہیں ہیں چارہ گر کہاں جائے
زندگی کے صحرا میں کھا گیا حسیں دھوکا
اس سراب کا مارا لوٹ کر کہاں جائے
ہر قدم پہ پیچ و خم تیرا ہر نشاں مبہم
راہرو کہاں جائے راہبر کہاں جائے
ظلمتوں کی بستی ہے روشنی ترستی ہے
تیرگی پرستی ہے اب سحر کہاں جائے
تیرے در پہ جینا ہے تیرے در پہ مرنا ہے
اب تھکا ہوا مضطرؔ در بدر کہاں جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.