نہ مرا جسم ہے کوئی نہ مرا گھر کوئی
نہ مرا جسم ہے کوئی نہ مرا گھر کوئی
میں وہ چہرہ ہوں کہ جس کا نہیں پیکر کوئی
اٹھ گئی رسم محبت کی جہاں سے شاید
اب نظر آتا نہیں شہر میں دلبر کوئی
شام کی لاش پہ یہ صبح کا ماتم کیسا
رات کی کوکھ میں کیا دن کا ہے پیکر کوئی
گوشے گوشے میں تصور کا اگاؤ سورج
شہر فردا میں اندھیرا نہ رہے گھر کوئی
میں بھی احساس کی لہروں میں جھکولے کھاتا
میرے صحرا میں بھی لہراتا سمندر کوئی
وقت کی دھوپ میں پگھلے ہوئے لمحوں کی طرح
آدمی زادوں کا ہوتا نہیں پیکر کوئی
اس کی توقیر کا ہے رایت ہستی مظہر
کیمیا خاک سے ایمنؔ نہیں بڑھ کر کوئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.