لمحہ لمحہ ہے قیامت سی بپا خوابوں میں
لمحہ لمحہ ہے قیامت سی بپا خوابوں میں
کس خطا کی مجھے ملتی ہے سزا خوابوں میں
جو اندھیرے میں رہا برف جزیرے کی طرح
وہ جہاں آتش سیال ہوا خوابوں میں
جسم میں آگ کہ آنکھوں میں ہے صحرا کوئی
واقعہ ہے کہ اٹھی گرم ہوا خوابوں میں
اک مقام ایسا کبھی راہ جنوں میں آیا
ایک لمحے میں کوئی ٹوٹ گیا خوابوں میں
پاک دامن ہیں کہاں میرے بدن کی صبحیں
کانپ اٹھتے ہیں مرے دست دعا خوابوں میں
صاحب عشق ہوں روداد سنو میری بھی
کیسے تاراج ہوا تخت سبا خوابوں میں
یوں لب سنگ سے پھوٹے گا ترا نور سحر
اک تبسم سے یہی راز کھلا خوابوں میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.