دشت امکاں کے سفر کا خواب اوڑھا سو گئے
دشت امکاں کے سفر کا خواب اوڑھا سو گئے
خواب کا بستر بچھایا خواب اوڑھا سو گئے
ایک صحرا آنکھ میں تھا ایک دریا دل میں تھا
ریت نے دونوں کو ڈھانپا خواب اوڑھا سو گئے
عمر بھر دیوار سے سر اپنا ٹکراتے رہے
جب نہ کوئی در ہوا وا خواب اوڑھا سو گئے
شہر بھر میں ڈھونڈتے پھرتے رہے اپنا نشاں
جب کہیں خود کو نہ پایا خواب اوڑھا سو گئے
ہم نے ملبے میں بھی ڈھونڈی زندگی کی روشنی
کوئی جگنو جب نہ چمکا خواب اوڑھا سو گئے
دھوپ اٹھ کر اپنی آنکھیں مل رہی تھی جب ندیمؔ
جسم سے سایہ اتارا خواب اوڑھا سو گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.