اب یہ راتیں بھی ہوں گی سحر آشنا
اب یہ راتیں بھی ہوں گی سحر آشنا
ہو گئی ہیں دعائیں اثر آشنا
اجنبی ہو گئی ہیں جو بعد وصال
ہو سکیں گے نہ اب عمر بھر آشنا
تیرا بیمار ہے اجنبی شہر میں
کاش ہوتا کوئی چارہ گر آشنا
کوششیں ہم نے کی تھیں مگر ہو سکے
چاہ کر بھی نہ بار دگر آشنا
صبر کرتے رہو ساتھ چلتے رہو
ہو ضروری نہیں ہم سفر آشنا
کس کی خاطر میں صحرا سے ہجرت کروں
مجھ سے رستے شناسا نہ گھر آشنا
حسن کے شہر سے بچ کے چلیے جناب
ہو نہ جائے بلاؤں کا گھر آشنا
جان لو جاں لٹا کر بھی اظہرؔ میاں
ہو نہ پائیں گے یہ بام و در آشنا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.