Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اب یہ راتیں بھی ہوں گی سحر آشنا

نعمان اظہر مصباحی

اب یہ راتیں بھی ہوں گی سحر آشنا

نعمان اظہر مصباحی

MORE BYنعمان اظہر مصباحی

    اب یہ راتیں بھی ہوں گی سحر آشنا

    ہو گئی ہیں دعائیں اثر آشنا

    اجنبی ہو گئی ہیں جو بعد وصال

    ہو سکیں گے نہ اب عمر بھر آشنا

    تیرا بیمار ہے اجنبی شہر میں

    کاش ہوتا کوئی چارہ گر آشنا

    کوششیں ہم نے کی تھیں مگر ہو سکے

    چاہ کر بھی نہ بار دگر آشنا

    صبر کرتے رہو ساتھ چلتے رہو

    ہو ضروری نہیں ہم سفر آشنا

    کس کی خاطر میں صحرا سے ہجرت کروں

    مجھ سے رستے شناسا نہ گھر آشنا

    حسن کے شہر سے بچ کے چلیے جناب

    ہو نہ جائے بلاؤں کا گھر آشنا

    جان لو جاں لٹا کر بھی اظہرؔ میاں

    ہو نہ پائیں گے یہ بام و در آشنا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے