آثار آب سیل صدا رنج رائیگاں
آثار آب سیل صدا رنج رائیگاں
کیا کیا ہوا کی زد پہ لرزتا ہے بادباں
پانی پہ کانپتا ہے کوئی پارہ پارہ عکس
پتھر کو چاٹتا ہے کوئی نقش بے نشاں
جیسے گل سیاہ بکھرتا ہو عرش پر
گرتی ہیں آسماں سے اندھیرے کی پتیاں
کس دشت بے کنار میں تنہا کھڑا ہوں میں
سارے بدن میں ریت کی لہریں سی ہیں دواں
اب میں نہیں تو میرے سوا سب سفر میں ہیں
سنتا ہوں ابر سے دل دریا کی داستاں
موج ہوس ابھر کے وہیں رہ گئی ظفرؔ
دیوار دوستی تھی مرے اس کے درمیاں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.