Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پھرتا ہوں کاش کوئی شناسا دکھائی دے

احسان دانش کاندھلوی

پھرتا ہوں کاش کوئی شناسا دکھائی دے

احسان دانش کاندھلوی

MORE BYاحسان دانش کاندھلوی

    پھرتا ہوں کاش کوئی شناسا دکھائی دے

    دنیا ہے اس میں کوئی تو اپنا دکھائی دے

    اس آستاں پہ جس کی جبیں جھک گئی اسے

    کعبہ نظر پڑے نہ کلیسا دکھائی دے

    دیوانے اس بہار کو کیا نام دیں کہ جب

    صحرا تمام خون کا دریا دکھائی دے

    ہوں کم سواد کیوں مرے کوچے سے آشنا

    ہر راہرو کو کیوں ترا رستا دکھائی دے

    ان مرحلوں تک آ ہی گیا ہے جنون شوق

    جن مرحلوں میں موت تماشا دکھائی دے

    وہ کیا کرے گا چاند ستارے ترے بغیر

    دونوں جہاں میں جس کو اندھیرا دکھائی دے

    چھینے گا اس سے کون تری یاد کا سرور

    جو خود کو انجمن میں بھی تنہا دکھائی دے

    میری طرح پئے جو کوئی اشک نارسی

    سینے میں آبشار اترتا دکھائی دے

    کن دوستوں میں جاؤں کہ پاؤں وفا کی داد

    میرا خلوص جب تمہیں دھوکا دکھائی دے

    بڑھتا ہے ہنس کے صرف وہ دار و رسن کی سمت

    دل میں جسے الاؤ دہکتا دکھائی دے

    اس موڑ پر ہے قافلۂ احتیاط عشق

    جس میں ہنسی بھی غم کا تقاضا دکھائی دے

    یہ کیا کہا نہیں کوئی شائستۂ جمال

    یہ امتحان ہے تو پھر اچھا دکھائی دے

    میں اس گھٹا کو اس ترے ساون کو کیا کروں

    بوندوں میں جب غبار برستا دکھائی دے

    ہوں گے یہاں نجوم بھی گل بھی چراغ بھی

    تم جس کے سامنے ہو اسے کیا دکھائی دے

    میں اور کروں حریف نظر بھی کوئی قبول

    جلوؤں سے باہر آ مجھے تنہا دکھائی دے

    دانشؔ خدا کا شکر مجھے عشق کے لیے

    بندہ بھی وہ ملا ہے جو مولا دکھائی دے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے