پھرتا ہوں کاش کوئی شناسا دکھائی دے
پھرتا ہوں کاش کوئی شناسا دکھائی دے
دنیا ہے اس میں کوئی تو اپنا دکھائی دے
اس آستاں پہ جس کی جبیں جھک گئی اسے
کعبہ نظر پڑے نہ کلیسا دکھائی دے
دیوانے اس بہار کو کیا نام دیں کہ جب
صحرا تمام خون کا دریا دکھائی دے
ہوں کم سواد کیوں مرے کوچے سے آشنا
ہر راہرو کو کیوں ترا رستا دکھائی دے
ان مرحلوں تک آ ہی گیا ہے جنون شوق
جن مرحلوں میں موت تماشا دکھائی دے
وہ کیا کرے گا چاند ستارے ترے بغیر
دونوں جہاں میں جس کو اندھیرا دکھائی دے
چھینے گا اس سے کون تری یاد کا سرور
جو خود کو انجمن میں بھی تنہا دکھائی دے
میری طرح پئے جو کوئی اشک نارسی
سینے میں آبشار اترتا دکھائی دے
کن دوستوں میں جاؤں کہ پاؤں وفا کی داد
میرا خلوص جب تمہیں دھوکا دکھائی دے
بڑھتا ہے ہنس کے صرف وہ دار و رسن کی سمت
دل میں جسے الاؤ دہکتا دکھائی دے
اس موڑ پر ہے قافلۂ احتیاط عشق
جس میں ہنسی بھی غم کا تقاضا دکھائی دے
یہ کیا کہا نہیں کوئی شائستۂ جمال
یہ امتحان ہے تو پھر اچھا دکھائی دے
میں اس گھٹا کو اس ترے ساون کو کیا کروں
بوندوں میں جب غبار برستا دکھائی دے
ہوں گے یہاں نجوم بھی گل بھی چراغ بھی
تم جس کے سامنے ہو اسے کیا دکھائی دے
میں اور کروں حریف نظر بھی کوئی قبول
جلوؤں سے باہر آ مجھے تنہا دکھائی دے
دانشؔ خدا کا شکر مجھے عشق کے لیے
بندہ بھی وہ ملا ہے جو مولا دکھائی دے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.