Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یہ کیوں کہوں کسی رشک قمر نے لوٹ لیا

اقبال صفی پوری

یہ کیوں کہوں کسی رشک قمر نے لوٹ لیا

اقبال صفی پوری

MORE BYاقبال صفی پوری

    یہ کیوں کہوں کسی رشک قمر نے لوٹ لیا

    مجھے تو خود مرے ذوق نظر نے لوٹ لیا

    چمک رہی تھی نگاہوں کے سامنے منزل

    کہاں پہ لا کے مجھے راہبر نے لوٹ لیا

    عجب مقام سفر ہے کہ یہ بھی ہوش نہیں

    ہم آپ لٹ گئے یا ہم سفر نے لوٹ لیا

    کسی کا خواب محبت تھا بند آنکھوں میں

    جگا کے نیند سے مجھ کو سحر نے لوٹ لیا

    کہاں کی دید تجھے دیکھنے سے پہلے ہی

    نظر کا حسن ترے بام و در نے لوٹ لیا

    نہ پوچھ اس دل خانہ خراب کا عالم

    جسے نظر نے سنبھالا نظر نے لوٹ لیا

    وہ بے خودی تھی کہ سجدے کا ہوش ہی نہ رہا

    جبیں جھکی بھی نہ تھی سنگ در نے لوٹ لیا

    کہیں تو کس سے کہیں قصۂ تباہیٔ دل

    ہمارے گھر کو ہمارے ہی گھر نے لوٹ لیا

    عجیب کوئے رقابت ہے کوئے جاناں بھی

    ہمارا سایہ بھی دیوار و در نے لوٹ لیا

    کشاکش غم ہستی نہ مٹ سکی اقبالؔ

    دعا قبول ہوئی تو اثر نے لوٹ لیا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے