یہ کیوں کہوں کسی رشک قمر نے لوٹ لیا
یہ کیوں کہوں کسی رشک قمر نے لوٹ لیا
مجھے تو خود مرے ذوق نظر نے لوٹ لیا
چمک رہی تھی نگاہوں کے سامنے منزل
کہاں پہ لا کے مجھے راہبر نے لوٹ لیا
عجب مقام سفر ہے کہ یہ بھی ہوش نہیں
ہم آپ لٹ گئے یا ہم سفر نے لوٹ لیا
کسی کا خواب محبت تھا بند آنکھوں میں
جگا کے نیند سے مجھ کو سحر نے لوٹ لیا
کہاں کی دید تجھے دیکھنے سے پہلے ہی
نظر کا حسن ترے بام و در نے لوٹ لیا
نہ پوچھ اس دل خانہ خراب کا عالم
جسے نظر نے سنبھالا نظر نے لوٹ لیا
وہ بے خودی تھی کہ سجدے کا ہوش ہی نہ رہا
جبیں جھکی بھی نہ تھی سنگ در نے لوٹ لیا
کہیں تو کس سے کہیں قصۂ تباہیٔ دل
ہمارے گھر کو ہمارے ہی گھر نے لوٹ لیا
عجیب کوئے رقابت ہے کوئے جاناں بھی
ہمارا سایہ بھی دیوار و در نے لوٹ لیا
کشاکش غم ہستی نہ مٹ سکی اقبالؔ
دعا قبول ہوئی تو اثر نے لوٹ لیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.