وہ جتنی دیر رہے گھر تھا میرا گھر کی طرح
وہ جتنی دیر رہے گھر تھا میرا گھر کی طرح
گئے تو گھر وہی لگتا ہے اک کھنڈر کی طرح
نہیں صباحت رخسار ہی سحر کی طرح
ہیں سرخ ڈورے بھی اس آنکھ میں شرر کی طرح
اک ایسا سر بھی تھا تاریخ جس پہ نازاں ہے
جو کلمہ پڑھتا رہا کٹ کے زندہ سر کی طرح
خود اپنے آپ میں جلنے سے فائدہ کیا ہے
جلو اگر تو جلو شمع رہ گزر کی طرح
بھلائے کیسے کوئی اس کا کلمۂ توحید
وہ دل پہ نقش ہے جو نقش کالجحر کی طرح
نہیں ہے دھوپ مگر دھوپ کی تپش سی ہے
شب فراق تو لگتی ہے دوپہر کی طرح
سفر میں اک بہت آگے ہے اک بہت پیچھے
عدیلؔ خیر نہیں تیز گام شر کی طرح
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.