ترے سفر میں محبت سفید بال ہوئے
ترے سفر میں محبت سفید بال ہوئے
اس اک عمل میں مجھے جانے کتنے سال ہوئے
جو مجھ درخت سے ٹوٹی تھی روٹھ کر ڈالی
بچھڑ کے دیکھیے کیا آج اس کے حال ہوئے
وہ کھوٹا سکہ سمجھتی رہی ہمیں لیکن
ہمیں نظر میں زمانے کی بے مثال ہوئے
بس ایک میں ہی ترستا ہوں نکہت گل کو
مرے رقیب تو خوشبو سے مالا مال ہوئے
بڑے سکون سے رہتا ہے اپنی دنیا میں
وہ شخص جس کے لیے سیکڑوں بوال ہوئے
کسی نے انگلی اٹھائی نہیں ہے اس کی طرف
ہمیشہ صرف مری ذات پر سوال ہوئے
ہم اس کی آس لگائے ہوئے ہیں اب بھی کبیرؔ
بہت زمانہ ہوا جس کا انتقال ہوئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.