سخت وحشت سے ہیں دو چار سفر کرتے ہیں
سخت وحشت سے ہیں دو چار سفر کرتے ہیں
دشت کی سمت عزادار سفر کرتے ہیں
عشق کا راستہ دنیا میں عجب رستہ ہے
جس پہ سب منعم و نادار سفر کرتے ہیں
سخت حیرت ہے مرے دوست فقط پیڑ نہیں
اس جزیرے پہ تو کوہسار سفر کرتے ہیں
ہجر ہے قافلہ سالار ازل سے میرا
زخم بن کر مرے انصار سفر کرتے ہیں
نقش رہ جاتے ہیں الفاظ دلوں پر جامیؔ
چاہے جیسے بھی ہوں افکار سفر کرتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.