سفر کی دھوپ میں جب سائے یاد آنے لگے
سفر کی دھوپ میں جب سائے یاد آنے لگے
قلم نکال کے کاغذ پہ گھر بنانے لگے
کسی بھی شخص کے اتنا قریب مت آؤ
کہ اس کے چھوڑ کے جانے کا ڈر ستانے لگے
ہم ایسے لوگ محافظ ہیں روشنی کے جناب
جہاں بھی تیرگی دیکھی دئیے جلانے لگے
یہ اور بات ہواؤں میں تیر چھوڑے تھے
مجھے تو اتنا پتہ ہے مرے نشانے لگے
ہزار رنج سہے لاکھ رائیگانی ہوئی
خدا کا شکر کیا اور مسکرانے لگے
وہ شخص اتنا حسیں ہے کہ اس کی دید کے بعد
اداس لوگ مسرت کے گیت گانے لگے
گذشتہ روز مری رہنمائی میں تھے جو لوگ
ہنسو وہ آج مجھے راستہ بتانے لگے
ہمارا چیختے رہنا تو یوں فضول گیا
کہ جیسے جگنو کوئی دن میں جگمگانے لگے
پھر ایک روز مری سانس رک گئی کاشفؔ
سبھی مسائل دنیا مرے ٹھکانے لگے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.