Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سفر کی دھوپ میں جب سائے یاد آنے لگے

کاشف بیگ کاشف

سفر کی دھوپ میں جب سائے یاد آنے لگے

کاشف بیگ کاشف

MORE BYکاشف بیگ کاشف

    سفر کی دھوپ میں جب سائے یاد آنے لگے

    قلم نکال کے کاغذ پہ گھر بنانے لگے

    کسی بھی شخص کے اتنا قریب مت آؤ

    کہ اس کے چھوڑ کے جانے کا ڈر ستانے لگے

    ہم ایسے لوگ محافظ ہیں روشنی کے جناب

    جہاں بھی تیرگی دیکھی دئیے جلانے لگے

    یہ اور بات ہواؤں میں تیر چھوڑے تھے

    مجھے تو اتنا پتہ ہے مرے نشانے لگے

    ہزار رنج سہے لاکھ رائیگانی ہوئی

    خدا کا شکر کیا اور مسکرانے لگے

    وہ شخص اتنا حسیں ہے کہ اس کی دید کے بعد

    اداس لوگ مسرت کے گیت گانے لگے

    گذشتہ روز مری رہنمائی میں تھے جو لوگ

    ہنسو وہ آج مجھے راستہ بتانے لگے

    ہمارا چیختے رہنا تو یوں فضول گیا

    کہ جیسے جگنو کوئی دن میں جگمگانے لگے

    پھر ایک روز مری سانس رک گئی کاشفؔ

    سبھی مسائل دنیا مرے ٹھکانے لگے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے