رفتہ رفتہ بدل گئے رستے
رفتہ رفتہ بدل گئے رستے
گھپ اندھیرے میں ڈھل گئے رستے
سو گیا تھا کسی سرائے میں
اور آگے نکل گئے رستے
کچھ گھروندوں کو کھا گیا دریا
کچھ گھروں کو نگل گئے رستے
کتنی بے سمت ہو گئیں راہیں
کتنے بوجھل ہیں آج کل رستے
آسماں بھی پگھل گیا یارو
اور پاؤں میں جل گئے رستے
چار سو تو ہی تو نظر آیا
ہم نے دیکھا بدل بدل رستے
ناگہاں تھم گئی زمیں اظہرؔ
میں یہ سمجھا سنبھل گئے رستے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.