راہ کو جو آسان بنا دے وہ منزل کیا منزل ہے
راہ کو جو آسان بنا دے وہ منزل کیا منزل ہے
ہر منزل سے آگے یارو اپنے شوق کا حاصل ہے
جس کو درد کا درماں سمجھا وہ بھی درد بھرا دل ہے
اتنے درد پہ بھی یہ دنیا کتنے پیار کے قابل ہے
باہر سے آواز یہ آئے تم ہی مسیحا ہو اپنے
میرے اندر شور بپا ہو دل ہی اپنا قاتل ہے
کچھ منزل پر جا سستائے کچھ راہوں میں بیٹھ گئے
کوئی کسی کا بھید نہ جانے اپنی اپنی منزل ہے
ہم کو انساں اور خدا کے فرق پہ کتنی وحشت تھی
دیکھا تو اس دوراہے پر اپنی ذات ہی حائل ہے
نادانوں کو دے دیتی ہے دنیا فرزانوں کا نام
وہ ہی دیوانہ کہلائے جو بھی عشق میں کامل ہے
رنگ محبت رنگ ابد ہے پھول ہوں میں مہکار ہے تو
دائم قائم رونق ہستی تیری میری محفل ہے
طوفانوں سے ڈر جائیں تو ساحل سے طوفان امڈیں
موجوں کو پتوار بنا لیں تو ہر موج ہی ساحل ہے
مشکل کو آسان سمجھ کے ہم ہر عقدہ کھولیں گے
اپنی فکر جمیلؔ کریں وہ سہل بھی جن کو مشکل ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.