پرانی کشتی کو پار لے کر فقط ہمارا ہنر گیا ہے
پرانی کشتی کو پار لے کر فقط ہمارا ہنر گیا ہے
نئے کھویے کہیں نہ سمجھیں ندی کا پانی اتر گیا ہے
یہ ہوشمندی کے اونچے دعوے کسی مناسب جگہ پہ کرتے
یہ میکدہ ہے یہاں سے کوئی کہیں گیا بے خبر گیا ہے
نہ خواب باقی ہیں منزلوں کے نہ جانکاری ہے رہ گزر کی
فقیر من تو بلندیوں پر ٹھہر گیا سو ٹھہر گیا ہے
جوان آنکھوں میں کتنے سپنے سنہری دھج کے دکھائی دیتے
سمے کے سورج کا عکس جیسے ندی کے جل میں اتر گیا ہے
ادےؔ کے بارے میں کچھ نہ پوچھو پرانی مستی ابھی جواں ہے
کہ بزم یاراں میں شب گزاری پتہ نہیں اب کدھر گیا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.