Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پانیوں کا کیا سفر جنگل نہ کوئی گاؤں ہے

خلیل رامپوری

پانیوں کا کیا سفر جنگل نہ کوئی گاؤں ہے

خلیل رامپوری

MORE BYخلیل رامپوری

    پانیوں کا کیا سفر جنگل نہ کوئی گاؤں ہے

    خاک پر چلئے کہ سستانے کو ٹھنڈی چھاؤں ہے

    ہر افق تک آنکھ نے پھیلا دیا ہے رنگ دل

    آسماں در آسماں ہوں گو زمیں پر پاؤں ہے

    جل رہا ہوں دوپہر کی آگ میں تنہا کھڑا

    سر پہ سورج ہے مرے قدموں کے نیچے چھاؤں ہے

    جس کی گلیاں شام سے سو جائیں گھر مرقد لگیں

    سچ ہے ایسے شہر سے اچھا تو اپنا گاؤں ہے

    جس جگہ پر بھی پڑے گا نقش چھوڑے گا عجب

    ابر کا سایہ نہیں یہ آدمی کا پاؤں ہے

    کوئی چھپر میں مگن ہے کوئی ایواں میں خلیلؔ

    اپنا اپنا بخت ہے یہ اپنی اپنی چھاؤں ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے