پانیوں کا کیا سفر جنگل نہ کوئی گاؤں ہے
پانیوں کا کیا سفر جنگل نہ کوئی گاؤں ہے
خاک پر چلئے کہ سستانے کو ٹھنڈی چھاؤں ہے
ہر افق تک آنکھ نے پھیلا دیا ہے رنگ دل
آسماں در آسماں ہوں گو زمیں پر پاؤں ہے
جل رہا ہوں دوپہر کی آگ میں تنہا کھڑا
سر پہ سورج ہے مرے قدموں کے نیچے چھاؤں ہے
جس کی گلیاں شام سے سو جائیں گھر مرقد لگیں
سچ ہے ایسے شہر سے اچھا تو اپنا گاؤں ہے
جس جگہ پر بھی پڑے گا نقش چھوڑے گا عجب
ابر کا سایہ نہیں یہ آدمی کا پاؤں ہے
کوئی چھپر میں مگن ہے کوئی ایواں میں خلیلؔ
اپنا اپنا بخت ہے یہ اپنی اپنی چھاؤں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.