کچھ اس لیے بھی مجھے آئنہ پسند نہیں
کچھ اس لیے بھی مجھے آئنہ پسند نہیں
میں صاف گوئی میں بھی انتہا پسند نہیں
ہم اس سے خیر کی امید کیا رکھیں جس کو
دیے سے ربط نہیں اور ہوا پسند نہیں
تمام عمر پڑاؤ پہ کاٹنا ہوگی
سفر کا شوق ہے اور راستہ پسند نہیں
مرا خلوص کہ اس کی جگہ پہ کٹ رہا ہوں
وہ شاخ جس کو مرا گھونسلہ پسند نہیں
تمہارے سامنے سچ بولنے سے رک گئے ہیں
ہمیں بتاؤ تمہیں اور کیا پسند نہیں
یہ اور بات کہ دل میں جگہ نہ دیں گے اسے
مگر وہ شخص ہمیں اب بھی نا پسند نہیں
ظہیرؔ اس کو بچانا ہے ڈوبنے سے مجھے
وہ دوست جس کو مرا تیرنا پسند نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.