کس سمت سے آیا ہے تو جانا ہے کدھر دیکھ
کس سمت سے آیا ہے تو جانا ہے کدھر دیکھ
اے شخص ذرا اپنا سفر زاد سفر دیکھ
آ جائیں گے سوکھے ہوئے پیڑوں پہ ثمر دیکھ
اے جان بہاراں تو فقط ایک نظر دیکھ
خوش فہم جزیروں کی ہواؤں سے نکل کر
اک بار حقیقت کے سمندر میں اتر دیکھ
جذبات کے طوفان سے مت صرف نظر کر
خود اپنے اشارات سمجھ زیر و زبر دیکھ
اس رات کے پرہول بیاباں سے گزر کر
پھولوں کو جگانے ہے چلی باد سحر دیکھ
مت دیکھ کہ کیا حال ہوا اہل ہنر کا
اے جان سخن شوق و تمنائے ہنر دیکھ
جز تیرے کوئی اور تو حاجت نہیں رکھی
اے حاصل دل حالت دل بار دگر دیکھ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.