کرشمہ سازیٔ نظارہ مہر و ماہ میں ہے
کرشمہ سازیٔ نظارہ مہر و ماہ میں ہے
تمام عالم امکاں مری نگاہ میں ہے
سفر کے بعد پڑاؤ بھی ایک راہ میں ہے
مآل کار بھی میرا مری نگاہ میں ہے
سبو سے جام سے لپٹی ہے وضع داریٔ شوق
خزاں رسیدہ جوانی مزا نباہ میں ہے
ہر ایک جام پہ نکلا ہے منہ سے بسم اللہ
خدا کا ذکر بھی شامل مرے گناہ میں ہے
نظر سے دامن دل میں سمیٹ لوں کیوں کر
جو نور بکھرا ہوا تیری جلوہ گاہ میں ہے
صلیب و دار بھی ہیں اور گلے بھی کٹتے ہیں
بڑی ہی جان کی جوکھم تمہاری چاہ میں ہے
نہ تمکنت ہے نہ نخوت نہ بانکپن ہے منیرؔ
سر بلند کہاں آج کج کلاہ میں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.