اس کو نام جنوں کا دے لو پیار کہو کہ دلار کہو
اس کو نام جنوں کا دے لو پیار کہو کہ دلار کہو
ایسا اور کسی کا دیکھا دل کا کاروبار کہو
بستی میں دیوانہ سمجھو دشت میں ہم کو خوار کہو
ان سے ایک نہ ایک بہانے ہونا تھا دو چار کہو
اور کسی کے در پر جائیں چھوڑ کے ان کا دوار مگر
ایسی اچھی آنکھوں والے کتنے ہیں سرکار کہو
تم نے حال ہمارا دیکھا تم جو باغ و بہاراں میں
گل کو چاک بداماں جانو نرگس کو بیمار کہو
بیچ بھنور کے منزل کرتے ہم تو یوں بھی پہنچیں گے
ایک ٹکے میں لے چلتے ہو مانجھی دریا پار کہو
ہم بھی ترے کونین بھی تیرے دنیا کیا اور عقبیٰ کیا
بیچ میں کیوں اے دوست اٹھا دی ناحق کی دیوار کہو
انشاؔ جی یہ فیض ہے کس کا کیا ہے اس کا نام مقام
ہم تو رنگ تمہارا جانیں ایسے کب اشعار کہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.