انساں کے ساتھ جسم کا سایہ نہ جائے گا
انساں کے ساتھ جسم کا سایہ نہ جائے گا
اب کوئی بھی چراغ بجھایا نہ جائے گا
جانا ہے جس کو اٹھ کے مرے سامنے سے جائے
نظروں سے اب کسی کو گرایا نہ جائے گا
ہم آئنہ صفات ہیں چلمن صفت نہیں
دل میں جو ہے وہ ہم سے چھپایا نا جائے گا
واجب ہے اس لیے بھی یہ غسل سفر کہ ہم
جاتے ہیں واں جہاں سے پھر آیا نہ جائے گا
کوئی خبر تو دے کہ نشانے پہ ہم بھی ہیں
اس کا پھر ایک تیر بھی ضائع نہ جائے گا
پہلے نگاہ کیف میں ساقی ڈبو اسے
ورنہ یہ جام ہم سے اٹھایا نہ جائے گا
مہماں وہ ہوگا بحر تکلف مرا تو پھر
ایسے میں ہم سے گھر کو سجایا نہ جائے گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.